فارسی زبان و ادب
پاکستان اور برصغیر میں فارسی ادب اور پاکستان و ایران کے ثقافتی تعلقات پر تحقیق۔ اس شعبے کی تصانیف میں پاک ایران ثقافتی تعلقات سے متعلق ان کی فارسی کتاب بھی شامل ہے، جس کی اشاعت پیشہ ورانہ کوائف میں ۱۹۷۱ء درج ہے۔
حضرت سلطان باھوؒ کی حیات، تصانیف اور تعلیمات پروفیسر ڈاکٹر سلطان الطاف علی کی تحقیق کا مرکز ہیں۔ ان کے کام میں مخطوطات اور تاریخی مآخذ کے مطالعے کے ساتھ اردو ترجمہ، شرح اور صوفیانہ فکر کی تفہیم شامل ہے۔
۱۹۵۸ء سے شروع ہونے والا یہ کام سوانح، مخطوطات، فارسی نثر اور ابیات کے مطالعے سے آگے بڑھا۔ پروفیسر ڈاکٹر سلطان الطاف علی نے حضرت سلطان باھوؒ کی حیات اور تاریخی عہد کا جائزہ لیا، متون کی تحقیق کی، اور ان میں بیان کردہ فقر اور روحانی زندگی کی تعلیمات کو موضوع بنایا۔ ان کے تراجم اور شروح یہ علمی کام اردو قارئین تک پہنچاتے ہیں۔
حضرت سلطان باھوؒ پر ان کے کام کے ساتھ فارسی ادب، تصوف اور اسلامی فکر کا وسیع مطالعہ بھی شامل رہا۔ درج ذیل موضوعات ان کی دیگر علمی خدمات کا تعارف پیش کرتے ہیں۔
پاکستان اور برصغیر میں فارسی ادب اور پاکستان و ایران کے ثقافتی تعلقات پر تحقیق۔ اس شعبے کی تصانیف میں پاک ایران ثقافتی تعلقات سے متعلق ان کی فارسی کتاب بھی شامل ہے، جس کی اشاعت پیشہ ورانہ کوائف میں ۱۹۷۱ء درج ہے۔
فارسی اور سرائیکی متون کا مطالعہ اور ان کے مفاہیم کو اردو میں پیش کرنا۔ قیصر بھٹی نے خصوصاً حضرت سلطان باھوؒ کی تصانیف کے حوالے سے متن کی صحت، بامحاورہ اظہار اور توضیح پر ان کی توجہ کا جائزہ لیا ہے۔
نبی کریم ﷺ کی حیات و اسوہ، ملی یکجہتی، تعلیم اور معاشرت سے متعلق تحریریں اور کانفرنس مقالات۔ یہ موضوعات تصوف سے متعلق ان کے تحقیقی کام کے ساتھ شامل رہے ہیں۔
اقبال کی تحریروں، بالخصوص اسرارِ خودی اور رموزِ بے خودی، کی روشنی میں خودی کا مطالعہ۔ تفہیم خودی اس موضوع پر ان کی تصنیف ہے۔ ان کے مضامین میں فکرِ اقبال اور حضرت سلطان باھوؒ کے تعلق پر بھی گفتگو ملتی ہے۔
پیشہ ورانہ کوائف میں بارہ کانفرنس اور سیمینار مقالات درج ہیں۔ اس انتخاب میں حضرت سلطان باھوؒ، فارسی ادب اور اسلامی فکر پر پاکستان، ایران اور بھارت میں پیش کیے گئے مقالات شامل ہیں۔